بنگلورو، 9/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک میں انتخابی ہلچل تیز ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی کو حکومت مخالف لہر اور بدعنوانی کے سنگین الزامات کی وجہ سے وزیر اعلیٰ بومئی کی مقبولیت میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں کانگریس نےالیکشن جیتنے کے لئے پوری طاقت لگادی ہے۔ اسی کے تحت پارٹی نے داخلی سروے کروایاتھا جس میں یہ حوصلہ افزا انکشاف ہوا ہے کہ وہ ریاست کے اسمبلی الیکشن میں ۲۲۴؍ سیٹوں میں سے ۱۴۰؍ سیٹوں پر فتح حاصل کرسکتی ہے جبکہ بی جے پی صرف۶۵؍ سیٹوں پر سمٹ جائے گی۔ اس سروے کے تعلق سے کانگریس کی ریاستی اکائی کے صدر ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ ہم جو بات کہہ رہے ہیں وہی بات اب سروے کے ذریعے بھی سامنے آرہی ہے۔ انہوں نےبتایا کہ آنے والے دنوں میں بی جے پی کے متعدد موجودہ اراکین اسمبلی کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ یہ باتیں انہوں نے بی جےپی کے ۲؍سابق اراکین اسمبلی اور میسور کے سابق میئر کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کہی۔
سروے سے حوصلہ پاکر شیو کمار نے دعویٰ کیا کہ بی جےپی اس مرتبہ کرناٹک میں ۶۵؍ کا ہندسہ بھی پار نہیں کرسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ اسمبلی الیکشن میں بی جےپی ۴۰؍ سیٹوں پر ہی سمٹ جائے۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں سماج کا ہر طبقہ بی جےپی حکومت سے ناراض اور پریشان ہے۔ڈی کے شیوکمار کے مطابق ہمیں اپنے اعدادوشمار کے تعلق سے پوری گارنٹی ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ بی جےپی ۶۵؍ کا ہندسہ پار نہیں کرسکے گی۔ بی جےپی اس سلسلے میں جو کچھ کہہ رہی ہے اور کررہی ہے وہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔میں ان کی پارٹی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا۔
کرناٹک میں بی جے پی کی ہار کی پیش گوئی کرتے ہوئے ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ ’’یہ تو طے ہے کہ وہ ۶۵؍ کا ہندسہ پار نہیں کرسکیں گے اور میرے حساب سے تو اگر وہ ۴۰؍ پر ہی سمٹ جائیں تو حیرت نہیں ہونی چاہئےجیسے ریاست میں بی جےپی کی پہلی حکومت کے بعد ۲۰۱۳ء کے اسمبلی الیکشن میں انہیں ۴۰؍ سیٹیں ہی ملی تھیں۔ ‘ ‘ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس لئے اگر ۴۰؍ فیصد کمیشن والی بی جےپی حکومت ، ۴۰؍ سیٹوں تک ہی محدود ہوجائے تو کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ عوام ان پر بہت زیادہ برہم ہیں۔ آپ کہیں بھی جاکر کسی سے بھی بات کرسکتے ہیں۔ ‘‘ یاد رہے کہ اس سے قبل ڈی کے شیو کمار نے دعویٰ کیا تھا کہ کانگریس کے سابقہ سروے میں پارٹی ۱۳۶؍ سیٹیں جیت جائے گی جبکہ تازہ سروے میں ۱۴۰؍ سیٹوں پر فتح کا امکان ظاہر کیاگیاہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے مزید جائزے لئے جائیں گے اور پارٹی بہتر سے بہتر مظاہرہ کرتی رہے گی۔
یاد رہے کہ ۲۰۱۸ء میں بی جےپی نے ۲۲۴؍ رکنی اسمبلی میں ۱۰۴؍ سیٹوں پر فتح حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی جبکہ کانگریس اور جنتادل سیکولر نے بالترتیب ۸۰؍ اور ۳۷؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جےپی سب سےبڑی پارٹی ہونے کے باوجود اکثریت سے محروم تھی اور کانگریس ۔جنتادل اتحاد نے حکومت قائم کی تھی لیکن بعد میں کانگریس اور جنتادل سیکولرکے کئی اراکین کی دل بدلی کے بعد زعفرانی پارٹی کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگئی اور اس نے حکومت قائم کرلی تھی ۔ ریاست میں امیدواروں کے انتخاب کیلئے اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈی کے شیو کمار نےبتایا کہ ہم نے ۷۵؍ فیصد کام مکمل کرلیا ہے۔ تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے مرکزی قیادت کو بھیج دیا جائےگا۔
کانگریس کے داخلی سروے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر یدی یورپا نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس کے داخلی سروے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ریاست میں بی جے پی کی لہر ہے اور پارٹی بہت آسانی سے حکومت بنائے گی۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ جو ۱۴۰؍ سیٹیں جیتنے کے دعوے کررہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سیٹیں بی جے پی کو ملیں گی ، انہیں صرف ۵۰؍ سے ۶۰؍ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ یدی یورپا نے اس دوران پارٹی کارکنوں اور سینئر عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ریاست کی تمام کمیونٹیز کو اعتماد میں لیںاور انہیں بی جے پی کی حمایت پر آمادہ کریں۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بومئی بھی ان دنوں ’وجے سنکلپ یاترا ‘ میں مصروف ہیں جو پوری ریاست میں کی جارہی ہے۔